ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / غریبوں کے کھاتے بند کرکے حکومت نے عوام کی دولت کو لوٹ کا ذریعہ بنادیا: کھرگے

غریبوں کے کھاتے بند کرکے حکومت نے عوام کی دولت کو لوٹ کا ذریعہ بنادیا: کھرگے

Thu, 29 Aug 2024 11:29:17    S.O. News Service

نئی دہلی، 29 اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس کے صدر ملک ارجن کھرگے نے کہا ہے کہ جن اسکیموں کو حکومت کامیابی قرار دے رہی ہے وہ کانگریس حکومت کے دوران بنی تھیں لیکن مودی حکومت نے ان کے نام بدل کر اب ان ہی اسکیموں کو عوام کا پیسہ لوٹنے کا ذریعہ بنادیا ہے۔

مسٹر کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت نے بینکوں کو لوگوں کی دولت لوٹنے کا ذریعہ بنادیا ہے اور کھاتوں میں کم از کم بیلنس نہ ہونے کے بہانے ہزاروں کھاتوں کو بند کرکے غریبوں کے پیسے کا غبن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے غریب جن دھن بینک کھاتہ داروں کو دھوکہ نہیں دیا ہے تو انہیں ان کے سوالوں کا جواب دینا چاہئے۔

کانگریس صدر نے حکومت سے تین سوال پوچھے اور سوال کیا ‘کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 10 کروڑ سے زیادہ جن دھن بینک اکاؤنٹس بند کیے گئے ہیں، جن میں سے تقریباً 50 فیصد اکاؤنٹس خواتین کے ہیں۔ ان میں سے دسمبر 2023 تک 12,779 کروڑ روپے جمع تھے۔ 20 فیصد جن دھن کھاتوں کے بند کرانے کا ذمہ دار کون؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پچھلے 9 برسوں میں جن دھن کھاتوں میں اوسط بیلنس 5000 روپے سے کم ہے یعنی صرف 4,352 روپے ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی کے درمیان اتنی رقم سے غریب کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟

پارلیمنٹ میں حکومت کے ایک جواب کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر کھڑگے نے کہا "کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جنرل اکاؤنٹس اور جن دھن اکاؤنٹس کو ملا کر مودی حکومت نے 2018 سے 2024 تک کم از کم بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے کم از کم 43,500 کروڑ روپے ، اضافی اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز، ایس ایم ایس چارجز پر ریکوری کرکے لوٹ مار کی گئی۔

کانگریس صدر نے کہا ‘آج کانگریس زیرقیادت کی متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) حکومت کے نو فریلز اکاؤنٹس اسکیم کے نام بدلنے کی 10 ویں سالگرہ ہے جس کے تحت مارچ 2014 تک 24.3 کروڑ غریبوں کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے تھے۔ اس حقیقت کو سمجھیں کہ مودی حکومت آج کیا بگل بجا رہی ہے – 2005 میں کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے حکومت نے بینکوں کو ‘نو فرلز اکاؤنٹس’ کھولنے کی ہدایت دی اور 2010 میں ریزرو بینک نے بینکوں سے کہا کہ وہ 2010 سے 2013 تک مالیاتی شمولیت کا منصوبہ تیار کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کو کہا۔ کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے حکومت نے 2011 میں مالیاتی شمولیت کا بڑا اقدام ‘سوابھیمان’ شروع کیا اور 2012 میں ‘نو فریل اکاؤنٹس’ کو سرکاری نام ملا – بنیادی بچت جمع اکاؤنٹ اور 2013 میں بینکوں کو مالیاتی شمولیت کے منصوبے کو 2016 تک بڑھا نے کی ہدایت دی ۔ جبکہ مودی حکومت نے اس کا نام بدل کر جن دھن یوجنا کر دیا ہے۔

مسٹر کھڑگے نے کہا "سال 2013 میں ہی کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے حکومت نے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر اسکیم شروع کی اور 291 اضلاع میں ایل پی جی سبسڈی فراہم کرنے کے لیے اسے آدھار سے منسلک کیا۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں، جو اس وقت اپوزیشن میں تھیں، نے اس ‘پہل’ اسکیم کی مخالفت کی۔ مودی جی نے بھی آدھار کی مخالفت کی تھی۔ آج مودی جی انہی اسکیموں کو استعمال کرتے ہوئے اشتہارات میں مگن ہیں۔


Share: